18 ستمبر 2013 - 19:30
بحران شام، امریکہ اور سعودی عرب کی سرگرمیوں شدت

ایک ایسے وقت جب عالمی سطح پر روس کے منصوبے کے دائرے میں شام کے بحران کے حل کے لئے ٹھوس پیشرفت ہورہی ہے ، سعودی عرب اور امریکی حکام کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

ابنا: امریکہ کی سیکورٹی و دفاعی تعاون ایجنسی کے سربراہ " جوزف ڈبلیو رکسی " گذشتہ کئی دنوں سے سعودی عرب کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے اس مدت کے دوران سعودی عرب کے اعلی حکام کے ساتھ کئی ملاقاتیں کی ہیں۔ گذشتہ روز جدہ میں امریکہ کی دفاعی اور سیکورٹی تعاون ایجنسی کے سربراہ نے سعودی عرب کے ولی عہد کے ساتھہ بھی مذاکرات کیئے۔ شام کے حالات خاصطور پر اس ملک میں کیمیاوی ہتھیاروں کا موضوع، ریاض و واشنگٹن کے حکام کے درمیان مذاکرات کا اصلی محور رہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب و امریکہ کے حکام اس بات کے درپے ہیں کہ حتی موجودہ صورت حال میں جبکہ شام کے حوالے سے روس کے منصوبے کا وسیع پیمانے پر خیرمقدم کیا جارہا ہے ، شام پر حملے کے لئے ماحول کو ہموار کریں۔ امریکہ اس وقت بھی شام میں دھشتگرد گروہوں کی حمایت جاری رکھے جانے پر تاکید کررہا ہے اور حال ہی میں امریکہ کی جانب سے  شام کے دھشتگردوں کے لئے ہتھیار فراہم کرنے کی بحث منظر عام پر آئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ریاض ابھی بھی شام کے خلاف جنگ کے نقّارے بجارہا ہے اور شام میں دھشتگردوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔امریکہ کی نیوز ویب سائٹ  " اینٹی وار " نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب نے  سزائے موت کے منتظر 1239 قیدیوں کو شام روانہ کردیا ہے تاکہ یہ مجرم قیدی شام میں مسلح دھشتگردوں کی صفوں میں شامل ہوجائيں۔ " انٹی وار " نیوز سائٹ نے سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ موت کے سزایافتہ یہ قیدی مختلف قسم کے جرائم میں ملوث رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود شام جانے اور وہاں مسلح دھشتگردوں کی صف میں شامل ہونے کی بنا پر ان کی تمام سزاؤں کو معاف کردیا گیا ہے اور سعودی عرب کی حکومت ایسے قیدیوں کے  اہل خانہ کو ماہانہ تنخواہ  ادا کررہی ہے۔اس موضوع سے نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب کی شام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں پر خاص نظر جمی ہوئی ہے۔ ریاض نے گذشتہ ڈہائی برسوں کے دوران امریکہ کے ساتھہ ہماہنگ ہوتے ہوتے ہوئے ، شام کے بحران کو ہوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ سعودی عرب نے ، قطر کے ساتھہ ملکر امریکہ کو یہ اطمینان دلایا تھا کہ شام پر فوجی حملے کی صورت میں ، جنگ کے اخراجات وہ خود اٹھائینگے۔ اس وقت جبکہ روس بعض علاقائی ملکوں کے ہمراہ اس کوشش میں ہے کہ کسی بھی طرح شام پر فوجی حملے کا آپشن ختم کروادے اور شام کے بحران کو سفارتی راہ سے حل کروائے اور حتی دمشق نے بھی ماسکو کے منصوبے کو قبول کرنے کے ساتھہ اپنی نیک نیتی کا اظہار کیا ہے، پھر بھی ریاض و واشنگٹن دمشق کے خلاف سازشیں بنارہے ہیں۔اس کی واضح مثال شام میں کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کی رپورٹ کے تناظر میں سعودی عرب و امریکہ کے مواقف ہیں۔ اگر چہ ان معائنہ کاروں نے شام میں اپنے معائنہ کی مکمل رپورٹ پیش نہیں کی ہے اور شام میں کیمیکل ہتھیاروں کو استعمال کرنے والوں کے ناموں کا بھی اس رپورٹ میں کو‏ئی ذکر نہیں کیا گیا ہے ، لیکن ریاض و واشنگٹن کے بعض حکام شام کے خلاف بین الاقوامی محاذ کھڑا کرنے کی گھناؤنی سازش کررہے ہیں اور اس حوالے سے شام کی حکومت کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ ایسی صورت حال میں ہے کہ شام میں مسلح دھشتگردوں کی جانب سے  کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں روس و اسلامی جمہوری ایران کی طرف سے مستند دستاویزات، امریکہ کے لئے ارسال کردی گئی ہیں۔اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ شام ، امریکہ کی جانب سے پیش کئے جانے والے منصوبے کہ جس پر عمل درآمد میں بعض عرب ممالک پیش پیش نظر آرہے ہیں کی بھیٹ چڑھ رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ علاقے میں  بھڑکنے والی ہر ممکنہ جنگ کے شعلے ، دیر یا زود علاقے کے تمام ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لینگے۔ اس میں شک نہیں کہ یہی عرب ممالک کہ جو شام میں جنگ کے لئے نقّارے بجارہے ہیں ، ہر دوسرے ملک سے پہلے امریکہ کی جنگ کی آگ میں جل جائینگے۔    ......./169